سیل[2]
معنی
١ - آبی جانوروں کا وہ گروہ جس کی غذا گوشت ہے، دریائی بچھڑا، سگِ ماہی۔ "سیل (دریائی بچھڑے) اور وہیل ہزاروں میل کا سفر کر کے نقل مکانی کرتی ہیں۔ ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤٣٧ )
اشتقاق
انگریزی سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٦ء کو "سائنس اور فلسفہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آبی جانوروں کا وہ گروہ جس کی غذا گوشت ہے، دریائی بچھڑا، سگِ ماہی۔ "سیل (دریائی بچھڑے) اور وہیل ہزاروں میل کا سفر کر کے نقل مکانی کرتی ہیں۔ ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤٣٧ )